Sunday, April 17, 2016
Quran Shafa'at Karega
NABI E KAREEM Sallallahu alaihi wasallam ne irshaad farmaya:
Quraan shareef ki tilawat kiya karo, isliye ke Qayamat ke din apne padhne wale ki shafa'at karega.
(Sahih Muslim,Hadith no:1874)
Saturday, April 16, 2016
Ashabul Ukhdood Ke Zulm
آخر میں ایک ایمان والی عورت اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے آئی اور جب بادشاہ نے اُس کو آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو وہ کچھ گھبرائی تو اس کے دودھ پیتے بچے نے کہا کہ اے میری ماں! صبر کر تو حق پر ہے۔ بچے کی آواز سن کر اس کے ماں کا جذبہ ایمانی بیدار ہو گیا اور وہ مطمئن ہو گئی۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس مومنہ کو اُس کے بچے کے ساتھ آگ میں پھینک دیا۔
بادشاہ اور اُس کے ساتھی خندق کے کنارے مومنین کے آگ میں جلنے کا منظر کرسیوں پر بیٹھ کر دیکھ رہے تھے اور اپنی کامیابی پر خوشی منا رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے کہ ایک دم قہر ِ الٰہی نے ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اور وہ اس طرح کہ خندق کی آگ کے شعلے اس قدربھڑک کر بلند ہوئے کہ بادشاہ اور اُس کے ساتھیوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب کے سب لمحہ بھر میں جل کر راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور باقی تمام دوسرے مومنین کو اللہ تعالیٰ نے کافراور ظالم کے شر سے بچالیا۔
(تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۳۳۹۔۲۳۴۰، پ ۳۰،البروج:۴۔ا ۷ )
اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے:۔
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوۡدِ ۙ﴿4﴾النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوۡدِ ۙ﴿5﴾اِذْ ہُمْ عَلَیۡہَا قُعُوۡدٌ ۙ﴿6﴾وَّ ہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوۡنَ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ ؕ﴿7﴾ (پ30،البروج:4۔7)
ترجمہ:کھائی والوں پر لعنت ہووہ اس بھڑکتی آگ والے جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے اور وہ خود گواہ ہیں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے۔
اس واقعہ سے یہ ہدایت کا سبق ملتا ہے کہ عموماً خدا کی طرف سے امتحان ہوا کرتا ہے اور بوقت امتحان مومنوں کا بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر و شاکر رہنا ہی اس امتحان کی کامیابی ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان کامل کی یہی نشانی ہے کہ مومن خدا عزوجل کی راہ میں پڑنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں سے گھبرا کر کبھی بھی اُس میں تذبذب نہیں پیدا ہوتا، بلکہ مومن خواہ پھولوں کے ہار کے نیچے ہو یا تلوار کے نیچے، پانی میں غرق کیا جائے یا آگ کے شعلوں میں جلایا جائے ہرحال میں بہرصورت وہ اپنے ایمان پر استقامت و استقلال کے ساتھ پہاڑ کی طرح قائم رہتا ہے اور اس کا خاتمہ ایمان ہی پر ہوتا ہے۔ یہ وہ سعادت عظمیٰ ہے کہ جس کو نصیب ہوجائے اس کی خوش بختیوں کی معراج ہوجاتی ہے اور وہ خدا عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہ قرب حاصل کرلیتا ہے کہ آسمانوں کے فرشتے اس کے اعلیٰ مراتب کی سربلندیوں کے مداح اور ثناء خواں بن جاتے ہیں.
Khwaja helped by wahabi
AlaHadrat Imam Ahmad Rida Khan (Alayhir Rahmat al-Mannan) narrated that a person from Bhagalpur annually visited Ajmer Shareef. A wealthy Wahabi was his friend who once remarked at him, “Miyan! why do you go there (Ajmer) every year, and foolishly
spend your money?” He replied, “Come with me and honestly see for yourself.”
However, he joined him one year and went along to Ajmer Shareef. There he saw a Faqeer with a walking stick circumambulating around the Mazaar Sharif saying aloud, “Khwaja! I want five Rupees, I want it in one hour and I want it from one person.”
This Wahabi stood there and patiently
watched this Faqeer. About an hour later,
when nothing happened, he took out five Rupees and said to the Faqeer, “You are asking Khwaja for money. What can he give you? Here, I will give it to you.”
The Faqeer took the money and went around the Mazaar Sharif one more time and screamed, “Khawja! May I be sacrificed on you. You chose a stupid idiot like this fool to give me the money.”
[Al-Malfuz, Vol. 3, Page no.384]
www.Twitter.com/AashiqeRasool12
Khwaja Moinuddin Chisti Ke Karamat
اسلام علیکم
حضرت خواجه معین الدین کی کچھ کرامات ملاحظه ھوں
کرامات خواجہ ہندالولی :۔
دوران قیامِ بغداد ایک دن خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی عنہ شیخ وحدالدین، شیخ شہاب الدین سہروردی اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالٰی عنہم کی ایک مجلس میں تھے۔ انبیاء علیہم السلام کا ذکر خیر ہو رہا تھا کہ سامنے سے ایک بارہ سال کا لڑکا ہاتھ میں ایک پیالہ لئے جا رہا تھا (دوسری کتابوں میں تیرو کمان کا ذکر ہے) جب بزرگوں کی نگاہیں اس پہ پڑی تو حضرت خواجہ نے فرمایا، یہ لڑکا ایک دن دہلی کا بادشاہ بنے گا۔ چنانچہ یہی وہ لڑکا شمس الدین التمش کے نام سے دہلی کا بادشاہ گزرا ہے۔
زیارتِ کعبہ :۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ ہر سال زیارتِ کعبہ کے لئے بقوت روحانی اجمیر سے تشریف لے جاتے تھے جب کام پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ ہر شب بعد نمازِ عشاء کعبۃ اللہ شریف تشریف لے جایا کرتے تھے اور نمازِ فجر اجمیر میں ادا فرماتے تھے۔
رھزنوں کا تائب ہونا:۔
ایک مرتبہ حضرت خواجہ اپنے مُریدوں کے ساتھ ایک گھنے جنگل سے گزر رہے تھے کہ وہاں بسنے والے ڈاکوؤں نے آپ کے مُریدوں پر حملہ کر دیا اور لوٹ مار شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ نے جب نگاہِ جمال ان ڈاکوؤں پر ڈالی تو وہ کانپنے لگے اور قدموں میں گر پڑے۔ چھینا ہوا سامان واپس کیا اور آپ کے دستِ حق پرست پر سب کے سب مشرف باسلام ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے ان کو چند نصیحتیں فرمائیں۔ جو نہایت گارکر ثابت ہوئیں۔ سب نے رہزنی سے توبہ کی اور پوری عُمر دین حق پر کاربند رہے اور سچائی کا دامن کبھی بھی اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
مقتول زندہ ہو گیا :۔
حاکم وقت نے ایک بے قصور شخص کو پھانسی دی اس کی ماں روتی پیٹتی ہوئی خدمتِ خواجہ میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا بیٹا بے قصور تھا حضور مجھ پر کرم فرمائیں۔ آپ عصا لیکر اس کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ مقتول کے پاس پہنچ کر عصا سے اس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا اگر تو بے نگاہ قتل کیا گیا ہے تو خدا کے حکم سے زندہ ہوجا اور دار سے نیچے اتر آ۔ مقتول یہ سنتے ہی زندہ ہو گیا اور سولی سے اتر کر آپ کے قدموں پر سر رکھا اور اپنی ماں کے ساتھ اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔
بُت پرستوں کا تائب ہونا :۔
کلمات الصادقین میں لکھا ہے کہ ایک دن حضرت خواجہ کا گزر کفار کے ایک بُت کدے کی طرف سے ہوا۔ اس وقت سات کافر بُت پرستی میں مشغول تھے آپ کا جمال جہاں آراء دیکھتے ہی بے بس ہو گئے اور قدموں میں آ کر گر گئے فوراً توبہ کی اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ آپ نے ان میں سے ایک کا نام حمیدالدین رکھ دیا۔ چنانچہ شیخ حمید الدین دہلوی ان سات حضرات میں سے ایک ہیں جنہوں نے شہرت پائی۔
آتش پرستوں کا قبولِ اسلام :۔
ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز صحرا سے گزرے وہاں آتش پرستوں کا ایک گروہ آگ کی پرستش میں مشغول تھا یہ لوگ اس قدت ریاضت و مجاہدات کرتے تھے کہ چھ چھ مہینے تک دانہ پانی زبان پر نہیں رکھتے تھے سرکار خواجہ نے ان لوگوں سے آتش پرستی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ آگ کو اس لئے پُوجتے ہیں کہ دوزخ میں یہ آگ ہمیں تکلیف نہ پہنچائے۔ آپ نے فرمایا دوزخ سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں بلکہ نارِ دوزخ سے بچنے کیلئے خالق نار کی پُوجا کرو پھر یہ آگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ تم لوگ اتنے دنوں سے آگ کی پوجا کرتے ہو ذرا اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر دکھاؤ ؟ ان لوگوں نے جواب دیا۔ آگ کا کام جلانے کا ہے، ہمارا ہاتھ تو جل جائے گا لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حق پرستوں کو آگ نہ جلائے گی۔ حضرت خواجہ نے فرمایا، دیکھو ہم خدا کے پرستار ہیں۔ یہ آگ ہمارے جسم کو تو دور کی بات ہماری جوتی کو بھی نہیں جلا سکتی۔ یہ فرما کر آپ نے اپنی ایک جوتی آگ میں ڈال دی بہت دیر تک وہ آگ میں رہی مگر اس پر آگ کا ذرا سا بھی اثر نہ ہوا یہ دیکھ کر سب مسلمان ہو گئے
Friday, April 15, 2016
Khwab ki tabeer
Eak adami ne khwab me dekha ki woh jangal me bhag raha hai aur uske piche sher laga hua hai . Bhagte bhagte use eak rassi dikhi jo tree ped se latki hui hai Woh bhagte bhagte rassi se latka aur woh rassi ke niche kua tha kua ke under eak azagar samp tha. Jo apna phan khole tha. Woh ped k upar chadjata hai Itne me do chuhe ek safed aur ek kala black uske tehni ko kat rahe hain Itne me uski nazar tree ke shahad par padi use tapkata dekh usne use chakna shuru kiya. Aur uski lazzat taste me khogaya
Uske Khwab ki tabeer ye thi ki jo jangal hai wo duniya hai aur jo sher hai woh malikulmaut maut ka farishta hai. Jo insan k piche padi hai. Jo tehni hai woh insan ki zindagi hai aur jo chuhe hai unme se safed chuha din hai aur kala chuha raat hai. Aur jo shahad hai woh duniya ka maza hai.
To tabir yeh hai ki insan duniya ki lazzato me itna khogaya hai k use maut yaad nahi hai aur aakhirat ko bhulkar sirf dunya ki nemote me mashghool hogaya hai
Request to everyone please namazo ki pabandi kare aur duao me yaad rakhe